السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وجوب القراءة على ما نزل من الأحرف السبعة دون غيرهن من اللغات باب: دیگر لغات کے بجائے ان سات حروف (قراءات) پر قراءت کے واجب ہونے کا بیان جن پر قرآن نازل ہوا ہے
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمُرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ قِرَاءَةً خِلَافَهَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَلَمْ تُقْرِأْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: " بَلَى " قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَمْ تُقْرِأْنِيهَا كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: " بَلَى " قَالَ: " كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ " قُلْتُ: مَا كِلَانَا أَحْسَنَ وَلَا أَجْمَلَ قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ: " يَا أُبَيُّ أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفٍ أَمَ عَلَى حَرْفَيْنِ؟ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفَيْنِ أَمْ ثَلَاثَةٍ؟ فَقَالَ لِيَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: ثَلَاثَةٌ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ: لَيْسَ فِيهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ، قُلْتُ: غَفُورٌ رَحِيمٌ عَلَيْمٌ حَلِيمٌ سَمِيعٌ عَلِيمٌ عَزِيزٌ حَكِيمٌ نَحْوُ هَذَا مَا لَمْ يَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ " وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ فَأَرْسَلَهُ.سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے اس کے مخالف قرأت میں پڑھی، ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کیا: کیا آپ نے مجھے فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہنے لگے: کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک اچھا اور بہترین پڑھ رہا ہے۔“ میں نے کہا: ہم دونوں کیسے؟
راوی فرماتے ہیں: آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا: ”اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک لہجہ پر یا دو لہجوں پر؟ میرے پاس جو فرشتہ تھا اس نے کہا: دو حرفوں پر، میں نے کہا: دو حرفوں پر، پھر پوچھا گیا دو حرفوں پر یا تین حرفوں پر؟ میرے ساتھ والے فرشتے نے مجھے کہا: تین کا کہیں! میں نے کہا: تین حرفوں پر حتیٰ کہ وہ سات لہجوں تک پہنچا، پھر اس نے کہا: اس میں ہر ایک لہجہ «شَافٍ كَافٍ» ”شافی اور کافی“ ہے۔ میں نے کہا: «غَفُورٌ رَحِيمٌ» ”غفور رحیم“، «عَلِيمٌ حَلِيمٌ» ”علیم حلیم“، «سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ”سمیع علیم“، «عَزِيزٌ حَكِيمٌ» ”عزیز حکیم“ اور اس کی طرح دیگر (کہہ دیا تو کچھ فرق نہیں پڑتا) البتہ آیتِ عذاب کو آیتِ رحمت سے یا آیتِ رحمت کو آیتِ عذاب سے بدلنا درست نہیں۔“