السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وجوب القراءة على ما نزل من الأحرف السبعة دون غيرهن من اللغات باب: دیگر لغات کے بجائے ان سات حروف (قراءات) پر قراءت کے واجب ہونے کا بیان جن پر قرآن نازل ہوا ہے
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِهِ أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْأَلُ اللهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ⦗٥٣٧⦘ ذَلِكَ " ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ هَذَا " ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ: اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ قَالَ: " أَسْأَلُ اللهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْتَ وَأُمَّتَكَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، أِيُّ حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثَ غُنْدَرٍ وَمُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ شُعْبَةَ.سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بنو غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے کہ آپ کی امت قرآن کو ایک لہجہ پر پڑھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ سے بخشش اور مغفرت چاہتا ہوں، کیونکہ میری امت میں اتنی طاقت نہیں۔“ وہ پھر لوٹ کر آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ ﷺ کی امت کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کو دو لہجوں میں پڑھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ جبرائیل علیہ السلام پھر لوٹ کر آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ ﷺ کی امت کو فرماتا ہے کہ قرآن کو تین حروف پر پڑھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اللہ سے عافیت اور مغفرت طلب کرتا ہوں کیونکہ میری امت میں اتنی طاقت نہیں ہے۔“ پھر جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی امت کو فرماتا ہے کہ قرآن کو سات لہجوں پر پڑھو، جس بھی لہجے پر پڑھیں گے درستگی کو پائیں گے۔