السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال تسقط القراءة عمن نسي ومن قال: لا تسقط باب: اس قول کا بیان کہ بھولنے والے سے قراءت ساقط ہو جاتی ہے اور اس قول کا بیان کہ ساقط نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3982
وَأنبأ أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقْرَأْتَ فِي نَفْسِكَ قَالَ: لَا قَالَ: فَإِنَّكَ لَمْ تَقْرَأْ، فَأَعَادَ الصَّلَاةَ ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم سے منقول ہے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المومنین! کیا آپ نے اپنے دل میں قراءت کی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”یقیناً آپ نے کچھ نہیں پڑھا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز لوٹائی۔