السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال تسقط القراءة عمن نسي ومن قال: لا تسقط باب: اس قول کا بیان کہ بھولنے والے سے قراءت ساقط ہو جاتی ہے اور اس قول کا بیان کہ ساقط نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3981
وَقَدْ أَخْبَرَنَا بِحَدِيثِ، إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فَلَمْ يَقْرَأْ شَيْئًا حَتَّى سَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ لَمْ ⦗٥٣٤⦘ تَقْرَأْ شَيْئًا، فَقَالَ: إِنَّى جَهَّزْتُ عِيرًا إِلَى الشَّامِ فَجَعَلْتُ أُنْزِلُهَا مَنْقَلَةً مَنْقَلَةً حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ فَبَعْتُهَا وَأَقْتَابَهَا وَأَحْلَاسَهَا وَأَحْمَالَهَا قَالَ: فَأَعَادَ عُمَرُ وَأَعَادُوا ".حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی تو اس میں قرات نہیں کی حتیٰ کہ نماز سے سلام پھیر دیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو کچھ بھی قرات نہیں کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں نے شام کی طرف لشکر تیار کر کے بھیجا ہے، میں اس کو اتارنے لگا، انہوں نے مختصراً راستوں پر پڑاؤ ڈالا، میں اس کو لے کر چلتا رہا حتیٰ کہ وہ شام آگیا۔ میں نے ان کو، ان کے پالانوں کو اور ان کی زینوں کو بیچا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز بھی لوٹائی اور ہم نے بھی نماز کا اعادہ کیا۔