حدیث نمبر: 397
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْمِهْرَجَانِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَوَضَّأَ فِي السُّوقِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ بَعْدَ مَا جَفَّ وُضُوءُهُ وَصَلَّى ". وَهَذَا صَحِيحٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَمَشْهُورٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَكَانَ عَطَاءٌ لَا يَرَى بِتَفْرِيقِ الْوُضُوءِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَالنَّخَعِيِّ وَأَصَحُّ قُولَيِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بازار میں وضو کیا تو اپنے ہاتھ، چہرے اور بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور ان کا وضو خشک ہو چکا تھا، پھر نماز ادا کی۔
(ب) یہ روایت صحیح ہے، اس کے راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور قتیبہ سے ان الفاظ کے ساتھ مشہور ہے۔
(ج) عطاء تابعی رحمہ اللہ وضو کی تفریق میں حرج نہیں سمجھتے تھے، یہی قول حسن رحمہ اللہ، نخعی رحمہ اللہ کا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں سے زیادہ صحیح یہی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 397
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»