السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: تفريق الوضوء باب: وضو کے افعال کو متفرق (وقفے وقفے سے) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 396
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَارِثُ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، نا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَأَى رَجُلًا وَبِظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " أَبِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلَاةَ؟ " فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، الْبَرْدُ شَدِيدٌ، وَمَا مَعِيَ مَا يُدْفِئُنِي، فَرَقَّ لَهُ بَعْدَمَا هَمَّ بِهِ، فَقَالَ لَهُ: " اغْسِلْ مَا تَرَكْتَ مِنْ قَدَمِكَ، وَأَعِدِ الصَّلَاةَ، وَأَمَرَ لَهُ بِخَمِيصَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے پاؤں پر کچھ جگہ کو پانی نہیں پہنچا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس وضو کے ساتھ تو نماز میں حاضر ہوگا؟ اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین! سخت سردی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے (پہلے) اس پر سختی کا ارادہ کیا تھا، پھر اس پر نرم پڑ گئے اور فرمایا: اپنے پاؤں کی وہ جگہ دھو جو تو نے چھوڑی ہے اور نماز دوبارہ لوٹا اور اس کو ایک اونی چادر دینے کا حکم دیا۔