السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب أقل ما يجزي من عمل الصلاة وأكثره -- باب: تعيين القراءة المطلقة فيما روينا بالفاتحة باب: نماز کے اعمال میں سے کم از کم جو کفایت کر جائے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: مطلق قراءت کو جو ہم نے روایت کی ہے، سورہ فاتحہ کے ساتھ متعین کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3949
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: " إِذَا قُمْتَ فَتَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَقْرَأَ، وَإِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ " وَقَالَ: " إِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاقْعُدْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ اس قصہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو قبلہ رخ ہو کر تکبیر کہہ، پھر «أُمَّ الْقُرْآنِ» ”ام القرآن“ اور جو اللہ چاہے پڑھ۔ جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ اور اپنی کمر کو لمبا برابر کر دے، اور جب تو سجدہ کرے تو اچھی طرح سجدہ کر، اور جب سجدے سے سر اٹھائے تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ۔“