حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنْ عَنْ وَقَالَ: " دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي " قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَوَابَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلَهُمْ عَمَّا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ لَمْ يُبْطِلْ صَلَاتَهُمْ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَنَّهُمْ أَوْمَئُوا.
حافظ ثناء اللہ

(ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے، مگر اس میں الفاظ اس طرح ہیں: «قَالَ: دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي» ”آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں بلایا تھا مگر تم نے مجھے جواب نہیں دیا، انہوں نے عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا“ یعنی اس کے معنی میں روایت بیان کی۔
(ب) اس بات میں اس چیز کی دلیل ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ ﷺ کو جواب دینا، جب آپ ﷺ نے ان سے ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تھا کہ ”وہ کیا کہہ رہا ہے؟“ تو یہ جواب دینے سے ان کی نماز باطل نہ ہوگی، اس لیے کہ حماد بن زید سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے اس قصہ میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اشارہ کیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3931
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»