السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَهُوَ يَذْكُرُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ وَيَحْمِلُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى ⦗٥١١⦘ الْعَمْدِ قَالَ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: فَمَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ فَظَاهِرُهُ الْعَمْدُ وَالنِّسْيَانُ وَالْجَهَالَةُ؟ قُلْنَا: صَدَقْتَ، هَذَا ظَاهِرٌ وَلَكِنْ كَانَ إِتْيَانُ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَبْلَ بَدْرٍ، ثُمَّ شَهِدَ بَدْرًا بَعْدَ هَذَا الْقَوْلِ، فَلَمَّا وَجَدْنَا إِسْلَامَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ سِنِينَ وَقَدْ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلَ ذِي الْيَدَيْنِ وَوَجَدْنَا عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً أُخْرَى وَقَوْلَ الْخِرْبَاقِ: وَكَانَ إِسْلَامُ عِمْرَانَ بَعْدَ بَدْرٍ، وَوَجَدْنَا مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ حَضَرَ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْلَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ: وَكَانَ إِسْلَامُ مُعَاوِيَةَ قَبْلَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَهْرَيْنِ وَوَجَدْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَوِّبُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ وَيَذْكُرُ أَنَّهَا سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجَدْنَا ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ وَكَانَ إِجَازَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ بَدْرٍ، فَعَلِمَنَا أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خُصَّ بِهِ الْعَمْدُ دُونَ النِّسْيَانِ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ الْحَدِيثُ فِي النِّسْيَانِ وَالْعَمْدِ يَوْمَئِذٍ لَكَانَتْ صَلَوَاتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ نَاسِخَةً لَهُ؛ لِأَنَّهَا بَعْدَهُ.حمیدی رحمہ اللہ اس مسئلہ کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو قصداً پر محمول کیا جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کا ظاہر عمد، نسیان اور جہالت پر ہے؟ ہم جواباً عرض کریں گے کہ آپ سچ کہتے ہیں: یہ ظاہر ہے، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارضِ حبشہ سے واپسی کا واقعہ بدر سے پہلے کا ہے۔ اس قول کے مطابق وہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک بھی ہوئے تھے، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو اس وقت نبی ﷺ خیبر میں تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے تین سال پہلے اسلام لائے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی نماز اور ذی الیدین رضی اللہ عنہ کے قول کے وقت موجود تھے۔ ہم نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نماز اور خرباق کے قول کے وقت دوسرے موقع پر موجود تھے اور عمران رضی اللہ عنہ بھی بدر کے بعد اسلام لائے تھے۔ معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہمیں یہ معلومات ملی ہیں کہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی نماز اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آیا اور معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے صرف دو ماہ پہلے مسلمان ہوئے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ہم نے پایا، وہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بات کو درست قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت تقریباً دس سال کے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ہم اسی طرح پاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں بدر کے بعد خندق میں جانے کی اجازت دی تھی۔ ہمیں پتا چل گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو نسیان سے ہٹا کر قصداً پر محمول کیا جائے گا اور اگر یہ حدیث اس وقت نسیان اور عمد (دونوں) کے لیے ہوتی تو بھی رسول اللہ ﷺ کی بعد والی نمازیں اس قول کے لیے ناسخ ہوں گی؛ کیونکہ یہ بعد والی ہیں۔