السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 3923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْقَطَّانِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارَ يَؤُمُّ النَّاسَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ إِنَّهُ تَبِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ بِخَيْبَرَ.حافظ ثناء اللہ
عراک بن مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں مدینہ آیا تو نبی ﷺ خیبر میں تھے اور بنو غفار کا ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وہ نبی ﷺ کی تلاش میں نکلے اور آپ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب آپ خیبر میں تھے۔