السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الكلام في الصلاة على وجه السهو باب: نماز میں بھول کر کلام کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ابْنِ الْحَمَامِيِّ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا ١٨٨٥ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " أَحَقٌّ مَا يَقُولُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ " قَالَ شُعْبَةُ قَالَ سَعْدٌ وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفْظُ حَدِيثِ آدَمَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ بِشْرٍ قِصَّةُ عُرْوَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین رضی اللہ عنہ سچ کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سعد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے مغرب کی نماز دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اور باتیں کیں، اس کے بعد باقی نماز پڑھی اور فرمایا: اس طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی کیا تھا۔