السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يتشهد بعد سجدتي السهو ثم يسلم باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے پھر سلام پھیرے
حدیث نمبر: 3899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: فِيهِمَا تَشَهُّدٌ؟ يَعْنِي فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَلَّمَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ، وَقَالَ قَتَادَةُ: لَا يَتَشَهَّدُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمًهُ اللهُ: وَالْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ فِي ذَلِكَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ وَإِنْ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ لَهُمَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سلمہ بن علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا سہو کے سجدوں میں تشہد ہے؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تو میں نے نہیں سنا لیکن تشہد پڑھنا میرے نزدیک محبوب ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ اور حسن رحمہ اللہ نے سلام پھیرا اور تشہد نہیں پڑھا۔
(ج) قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد نہ پڑھے۔
(د) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سلام کے بعد بھی سجدے کیے لیکن ان کے لیے تشہد نہیں پڑھا۔ وباللہ التوفیق۔