السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسلم عن سجدتي السهو باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ سہو کے بعد سلام پھیرے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَوْثَرٍ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى جِذْعٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَقَالُوا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ كَسُجُودِهِ الْأَوَّلِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ " قَالَ: مُحَمَّدٌ: وَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی، یا تو ظہر کی نماز تھی یا عصر کی، لیکن میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی تھی۔ آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرنے کے بعد مسجد میں لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، آپ ﷺ سخت غصے میں تھے۔ جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ نماز کم ہو گئی، نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں وہاں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، وہ دونوں بھی بات کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نامی ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر تکبیر کہتے ہوئے سر اٹھایا۔
(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے کہا اور سلام پھیرا۔