حدیث نمبر: 388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗١٣٤⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانِنَا ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ؟ قَالَ: " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يعْرَفُ خَيْلَهُ؟ ". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ: أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ ثَلَاثًا ". فَيُقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا، فَأَقُولُ: " فَسُحْقًا، فَسُحْقًا، فَسُحْقًا ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف نکلے تو یہ دعا پڑھی: «السَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ» ”تم پر سلامتی ہو اے مؤمن قوم کے گھر والو! اور ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا، تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“ (پھر فرمایا:) ”میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ اپنی امت کے اس شخص کو کس طرح پہچانو گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ، اگر ایک شخص کے پاس انتہائی سیاہ گھوڑوں میں سفید پیشانی والے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک وہ قیامت کے دن آئیں گے اور ان کے وضو کے اعضا چمک رہے ہوں گے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا اور کچھ لوگ میرے حوض سے اس طرح ہٹا دیے جائیں گے، جس طرح آوارہ اونٹ ہٹایا جاتا ہے، میں ان کو بلاؤں گا کہ آ جاؤ، آ جاؤ، آ جاؤ تین مرتبہ کہوں گا“ تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل دیا، تو میں کہوں گا: ”دور رہو، دور رہو، دور رہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 388
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم 249»