السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من جهر بالقراءة فيما حقه الإسرار لم يسجد سجدتي السهو باب: اس شخص کا بیان جس نے اس نماز میں بلند آواز سے قراءت کی جس میں آہستہ پڑھنا حق تھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، شَكَّ دَاوُدُ، فَسَبَّحَ النَّاسُ فَمَضَى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: " إِنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةً، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ خِلَافُ السُّنَّةِ، وَلَكِنِّي قَرَأْتُ نَاسِيًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ الْقِرَاءَةَ " وَيُذْكَرُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ جَهَرَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَلَمْ يَسْجُدْ، وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ بِنَحْوٍ مِنْ ذَلِكَ وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ظہر یا عصر کی نماز میں جہری قراءت کی۔ لوگ سبحان اللہ کہنے لگے مگر انہوں نے اپنی قراءت جاری رکھی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ہر نماز کی قراءت ہوتی ہے اور مجھے ایسا کرنے پر سنت کی مخالفت نے نہیں ابھارا بلکہ میں نے بھول کر قراءت شروع کر دی تھی، لیکن میں نے قراءت کو منقطع کرنا اچھا نہ سمجھا۔
قتادہ رحمہ اللہ کے واسطے سے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ظہر اور عصر کی نماز میں قراءت کی اور سجدہ سہو نہیں کیا۔
اسی کی مثل سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور اس بارے میں سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔