السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها فلم يذكر حتى استتم قائما لم يجلس وسجد للسهو باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اسے سیدھا کھڑا ہونے تک یاد نہ آیا تو وہ واپس نہ بیٹھے اور سجدہ سہو کرے
حدیث نمبر: 3847
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي اثْنَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَجْلِسْ فِيهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کسی نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ ﷺ بیٹھے بغیر کھڑے ہو گئے (تشہد نہیں پڑھا)، نمازی بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔ جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔