السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من سها فلم يذكر حتى استتم قائما لم يجلس وسجد للسهو باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اسے سیدھا کھڑا ہونے تک یاد نہ آیا تو وہ واپس نہ بیٹھے اور سجدہ سہو کرے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ ابْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.(ا) عامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر سیدھے کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا تو وہ بیٹھ گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہونے لگے تو انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور ہم نے بھی ان کے ساتھ سجدے کیے۔
(ب) ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوئے ہوں گے۔ ہمیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے لگے تھے تو لوگ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنے لگ گئے تو وہ بیٹھ گئے، پھر (آخر میں) انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔