حدیث نمبر: 3840
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ الْأَعْوَرِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ: كَلَّا، مَا فَعَلْتُ، قَالُوا: بَلَى قَالَ: وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَقَالَ: وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " لَا " قَالُوا: فَقَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَانْفَتَلَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ عُثْمَانَ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ قَوْلَهُ: " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " فِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَقَدْ رَوَاهُ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ كَمَا كَتَبْتُهُ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) حضرت ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا: اے ابوشبل! آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں میں نے تو ایسے نہیں کیا، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں بلکہ آپ نے اسی طرح کیا ہے۔ حضرت ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں کے ایک طرف تھا اور میں اس وقت بچہ تھا، میں نے کہا: جناب! آپ نے واقعی پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ وہ بولے: اوئے کالے! تو بھی ایسے ہی کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے دوبارہ قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ پھر فرمایا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو لوگوں کو تشویش ہوئی، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، آپ ﷺ واپس پھرے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ”میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“
(ب) یہ جریر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے مگر وہاں الفاظ قدرے مختلف ہیں، وہاں یہ ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“ اس کو حضرت ابن نمیر رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3840
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 401»