السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمْدَانِ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْأَعْرَجِ فَهُوَ حَدِيثٌ ثَابِتٌ لَا يُشَكُّ فِي ثُبُوتِهِ وَالْأَعْرَجُ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ مِنْ ثِقَاةِ الْمَدِينِيِّينَ، وَعَبْدُ اللهِ ابْنُ بُحَيْنَةَ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَالِكِ بْنِ الْقِشْبِ مِنْ أَزْدِ شِنُوءَةَ وَأُمُّهُ بُحَيْنَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: رَوَى عَنْهُ ابْنُهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا الْبُخَارِيُّ، فَذَكَرَهُ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْقَدِيمِ: ابْنُ بُحَيْنَةَ مَعْرُوفٌ بِصُحْبَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوَى هَذَا غَيْرُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَرُوِّينَاهُ فِيمَا مَضَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ السَّلَامِ وَبَعْدَهُ، وَآخِرُ الْأَمْرَيْنِ قَبْلَ السَّلَامِ وَذَكَرَهُ أَيْضًا ⦗٤٨١⦘ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ إِلَّا أَنَّ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ مُنْقَطِعٌ لَمْ يُسْنِدْهُ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَمُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَهْوَهُ، ثُمَّ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ ذَلِكَ قَبْلَ بَدْرٍ ثُمَّ اسْتَحْكَمَتِ الْأُمُورُ بَعْدُ، وَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْمَعْنَى إِلَّا أَنَّ الَّذِي حَدَّثَ الزُّهْرِيَّ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ لَمْ يَذْكُرْ لَهُ سُجُودَ السَّهْوِ، وَكَانَ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ أَوْ ذِي الشِّمَالَيْنِ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَقَدْ أَثْبَتَ غَيْرُهُ سَجْدَتَيْهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَابْنِ سِيرِينَ وَأَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ، وَمَشْهُورٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَتْوَاهُ بِسُجُودِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ.(ا) حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو آپ ﷺ پہلی دو رکعتوں میں بیٹھے بغیر ہی کھڑے ہو گئے اور اپنی نماز جاری رکھی۔ جب آپ نے اپنی نماز مکمل کی تو لوگ آپ ﷺ کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔
یہ حدیث ثابت ہے، اس کے ثبوت میں کوئی شک نہیں۔
(ب) زہری رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلام سے پہلے بھی سجدہ سہو کیا ہے اور بعد میں بھی اور دونوں میں جو آخری عمل ہے وہ سلام سے قبل کا ہے۔
البتہ زہری رحمہ اللہ کا یہ قول منقطع ہے، انہوں نے اسے کسی صحابی تک مسند بیان نہیں کیا، اور مطرف بن مازن قوی نہیں ہے۔
(ج) ایک دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی نماز اور آپ کے بھولنے کا واقعہ ذکر کیا، پھر زہری رحمہ اللہ نے کہا: یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے، پھر بعد میں احکام پختہ ہو گئے۔
(د) اور یہ وہ قول ہے جو ہمیں زہری رحمہ اللہ کے واسطے سے اس معنی میں پہنچا ہے، مگر جس نے زہری رحمہ اللہ کو یہ قصہ بیان کیا اس نے ان سے سہو کے سجدوں کا ذکر نہیں کیا، اور وہ سمجھتے تھے کہ نبی ﷺ نے ذوالیدین یا ذوالشمالین رضی اللہ عنہما والے دن سہو کے دو سجدے نہیں کیے، اس بارے میں ہم ذکر کریں گے۔ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“
اور دوسروں نے ابوسلمہ، ابن سیرین اور ابو سفیان رحمہم اللہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ذوالیدین رضی اللہ عنہ والے دن آپ ﷺ کے سہو کے دو سجدے ثابت کیے ہیں، اور زہری رحمہ اللہ سے ان کا جو فتویٰ مشہور ہے وہ سلام سے پہلے سہو کے سجدے کرنے کے متعلق ہے۔