السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يسجدهما قبل السلام في الزيادة والنقصان ومن زعم أن السجود بعده صار منسوخا باب: اس قول کا بیان کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں سلام سے پہلے سجدے کیے جائیں اور اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ سلام کے بعد سجدہ کرنا منسوخ ہو چکا ہے
حدیث نمبر: 3835
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي اثْنَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَلَمَّا اعْتَدَلَ قَائِمًا لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر یا عصر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں کے بعد (بغیر تشہد پڑھے) سیدھے کھڑے ہو گئے اور دوبارہ نہیں لوٹے، حتیٰ کہ نماز مکمل کر لی، پھر سلام سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔