السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
حدیث نمبر: 3812
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَفِيفِ بْنِ عَمْرٍو السَّهْمِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَكَعْبَ الْأَحْبَارِ عَنِ الَّذِي يَشُكُّ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَدْرِي أَثْلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَكِلَاهُمَا قَالَا: " فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً أُخْرَى وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ إِذَا صَلَّى ".حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اور کعب احبار رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے پتا ہی نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعات ادا کی ہیں، تین یا چار؟ تو ان دونوں نے فرمایا کہ وہ کھڑا ہو کر ایک رکعت مزید پڑھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔