السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
حدیث نمبر: 3810
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَوَخَّ الَّذِي يَظُنُّ أَنَّهُ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُصَلِّهِ ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ اپنی نماز میں سے جو بھول گیا اس پر سوچ بچار کر کے اپنی نماز کو مکمل کرے اور پھر آخر میں بیٹھے بیٹھے ہی (سلام سے پہلے) دو سجدے کر لے۔