السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من شك في صلاته فلم يدر صلى ثلاثا أو أربعا باب: اس شخص کا بیان جسے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار
حدیث نمبر: 3801
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ السَّلَامِ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ " ⦗٤٦٩⦘ إِلَّا أَنَّ هِشَامًا بَلَغَ بِهِ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ هَكَذَا رَوَاهُ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمِّهِ ابْنِ وَهْبٍ فَجَعَلَ الْوَصْلَ لِدَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو وہ ایک رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے، اگر پڑھی جانے والی رکعت پانچویں ہوگی تو وہ ان دو سجدوں سے جفت بن جائے گی اور اگر پڑھی جانے والی رکعت چوتھی ہوگی تو یہ دو سجدے شیطان کے لیے باعث ذلت و رسوائی ہوں گے۔“