السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب سجود السهو وسجود الشكر -- باب: لا تبطل صلاة المرء بالسهو فيها باب: سجدہ سہو اور سجدہ شکر سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز میں سہو (بھول) جانے سے آدمی کی نماز باطل نہیں ہوتی
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعُ النِّدَاءَ فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان کہی جائے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کے لیے گوز کی آواز ہوتی ہے، اتنی دور بھاگتا ہے کہ اس کو آواز سنائی نہ دے۔ پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو پھر پلٹ آتا ہے اور نمازی کے دل میں خیالات ڈالتا ہے حتیٰ کہ کہتا ہے: فلاں چیز یاد کرو، جو باتیں اس کو یاد نہیں ہوتیں وہ یاد دلاتا ہے۔ اس وقت آدمی کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار۔ (جب یہ صورت پیش آئے) تو نمازی بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“