أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَيْفٌ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ لَهُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ: فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيْنَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَيُقَالُ: قَدْ رَوَاهُ أَيْضًا، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَفِيهِ أَنَّهُ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ رَكْعَتَيْنِ وَقَدِ اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَفُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَابْنِ عَوْنٍ وَغَيْرِهِمْ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ نَسِيَ أَنْ يَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ صَلَّى فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَخْبَرَ عَنْ أَقَلِّ مَا يَكُونُ صَلَاةً، وَسَكَتَ عَمَّا زَادَ عَلَيْهِمَا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ بِلَالًا.حضرت سیف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سنا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر کوئی شخص آیا تو اس سے کہا گیا: یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ فرماتے ہیں: میں جب آیا تو رسول اللہ ﷺ جا چکے تھے البتہ مجھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ دروازے کے پاس کھڑے مل گئے تو میں نے کہا کہ اے بلال! کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا: کہاں پڑھی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی ہیں، پھر نکل کر دو رکعتیں بیت اللہ کے سامنے پڑھی ہیں۔
(ب) حضرت ابونعیم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے کعبہ میں دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ حضرت ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر، فلیح بن سلیمان، ابن عون رحمہم اللہ کی روایتیں جو انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہیں تمام اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ پوچھنا بھول گئے کہ آپ ﷺ نے کتنی رکعتیں نماز ادا کیں؟ اس حدیث میں تعداد کی تعیین ہو رہی ہے کہ آپ نے دو رکعتیں ادا کی ہیں۔
(ج) یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ انھوں نے آپ ﷺ کی نماز کی کم سے کم مقدار بیان کی ہو اور دو رکعتوں سے زیادہ جو آپ نے ادا کی ہیں ان پر سکوت اختیار کیا ہو؛ کیونکہ انھوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نہیں پوچھا تھا۔