السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير وجوب سجدة التلاوة باب: اس قول کا بیان جس نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں سمجھا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُثْمَانَ التَّيْمِيَّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سُورَةَ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا جَاءَتِ السَّجْدَةُ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ قَرَأَ بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءَتِ السَّجْدَةُ قَالَ: " يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا لَمْ نُؤْمَرْ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ، وَأَحْسَنَ وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ قَالَ: وَلَمْ يَسْجُدْ عُمَرُ " قَالَ: وَزَادَ نَافِعٌ: إِنَّ رَبَّكَ لَمْ يَفْرِضْ عَلَيْنَا السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَادَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَفْرِضِ السُّجُودَ إِلَّا أَنْ نَشَاءَ، وَشَاهِدُهُ الْمُرْسَلُ الَّذِي.سیدنا عبداللہ بن ربیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن (منبر پر) سورہ نحل کی تلاوت کی۔ جب سجدے کی آیت ﴿وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة النحل: 49] آئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی، جب سجدے کی آیت پر پہنچے تو فرمایا: اے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں، پھر جو کوئی سجدہ کر لے اس نے اچھا کیا اور درستگی کو پہنچا اور جو کوئی سجدہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا۔ سیدنا نافع رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ تمہارے رب نے ہم پر سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا بلکہ ہماری منشا پر چھوڑ دیا۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ کی سند سے ہے۔ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ سیدنا نافع رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ نے تلاوت کے سجدوں کو ہم پر فرض تو قرار نہیں دیا مگر یہ کہ ہم چاہیں تو کر لیں۔