السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: كراهية الزيادة على الثلاث باب: تین بار سے زیادہ دھونے کی کراہت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ الطُّهُورُ؟ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّاحَتَيْنِ فِي أُذُنَيْهِ، وَمَسَحَ بِإِبْهَامَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ، وَبِالسَّبَّاحَتَيْنِ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ أَوْ ظَلَمَ وَأَسَاءَ ". قَوْلُهُ نَقَصَ يَحْتَمِلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ نُقْصَانَ الْعُضْوِ، وَقَوْلُهُ ظَلَمَ يَعْنِي جَاوَزَ الْحَدَّ. وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وضو کس طرح ہے؟ آپ ﷺ نے پانی کا ایک برتن منگوایا، اپنی ہتھیلیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا تو اپنی دونوں سبابہ انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کیں اور اپنے انگوٹھوں کے ساتھ کانوں کے باہر والے حصے پر مسح کیا اور انگوٹھوں کے ساتھ اپنے کانوں کے باطنی حصوں پر بھی، پھر اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا: ”اس طرح وضو (کا طریقہ) ہے، جو اس سے زیادہ کرے یا کم کرے اس نے نافرمانی کی اور ظلم کیا یا فرمایا: ظلم کیا اور نافرمانی کی۔“
(ب) «نَقَصَ» میں احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد عضو کا نقصان ہے اور «ظَلَمَ» سے مراد اللہ تعالیٰ کی حد سے تجاوز کرنا۔ واللہ اعلم۔