السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن وقوف المرأة بجنب الرجل لا يفسد عليه صلاته باب: اس بات کی دلیل کہ مرد کے پہلو میں عورت کا کھڑا ہونا اس (مرد) کی نماز کو فاسد نہیں کرتا
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ⦗٤٤٢⦘ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كَمَا تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ وَاحْتَجَّ مُحْتَجٌّ بِمَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ عَمْرٍو، وَالرِّوَايَةُ عِنْدَنَا عَنْ عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نواسی حضرت امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما کو اٹھا کر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ جب سجدہ کرتے تو انھیں بٹھا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے۔
حضرت غصیف بن حارث کندی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہم خانہ بدوش لوگ ہیں اور ہم خیموں میں ہوتے ہیں، اگر میں باہر نکلوں تو مجھے سردی لگتی ہے اور اگر میری بیوی نکلے تو اس کو سردی لگتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپس میں کپڑا تقسیم کر کے اسی میں نماز پڑھ لو۔