السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن وقوف المرأة بجنب الرجل لا يفسد عليه صلاته باب: اس بات کی دلیل کہ مرد کے پہلو میں عورت کا کھڑا ہونا اس (مرد) کی نماز کو فاسد نہیں کرتا
حدیث نمبر: 3697
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ فَقَالُوا: يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَدْ جَعَلْتُمُونَا كِلَابًا، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ فَيَكُونُ لِيَ الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت مسروق رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ان چیزوں کا ذکر کیا گیا جو نماز توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا: نماز کو کتا، گدھا اور عورت توڑ دیتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے تو ہم (عورتوں) کو کتوں کے ساتھ ملا دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ ﷺ کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی، جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی تو میں آپ ﷺ کے سامنے لیٹنا ناپسند سمجھتی اور میں چپکے سے چلی جاتی۔