السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوقوف عند آية الرحمة وآية العذاب وآية التسبيح باب: آیتِ رحمت، آیتِ عذاب اور آیتِ تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: " سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ " ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً.سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قیام کیا، آپ ﷺ نے قیام میں سورۃ البقرہ پڑھی، جب رحمت والی آیت سے گزرتے تو رک کر اللہ سے رحمت کا سوال کرتے اور عذاب والی آیت سے گزرتے تو رک کر اللہ سے پناہ مانگتے۔ پھر قیام کے برابر رکوع کرتے اور رکوع میں «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ» ”پاک ہے، بہت غلبے، بڑی بادشاہت، بڑائی اور عظمت والا ہے۔“ پڑھتے، پھر اپنے قیام کے برابر سجدہ کرتے اور اپنے سجدوں میں بھی اسی طرح دعا پڑھتے، پھر کھڑے ہوئے اور (دوسری رکعت میں) سورہ آل عمران کی قراءت کی پھر ایک ایک سورت پڑھی۔