السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوقوف عند آية الرحمة وآية العذاب وآية التسبيح باب: آیتِ رحمت، آیتِ عذاب اور آیتِ تسبیح پر ٹھہرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3688
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّ رِجَالًا يَقْرَأُ أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَتْ: أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ التَّامِّ فَيَقْرَأُ بِالْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ دَعَا وَرَغِبَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ دَعَا وَاسْتَعَاذَ ".حافظ ثناء اللہ
مسلم بن مخراق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: کچھ لوگ ایک رات میں دو دو، تین تین مرتبہ مکمل قرآن پڑھتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پوری رات قیام کیا تو آپ ﷺ نے سورہ بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں۔ جب آپ ﷺ کسی خوشخبری والی آیت سے گزرتے تو دعا اور رغبت کرتے اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں ڈرانا ہوتا تو بھی دعا کرتے اور پناہ مانگتے۔