السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما روي في كيفية هذا القعود باب: اس (بیمار کے) بیٹھنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: لَأَنْ أَقْعُدَ عَلَى جَمْرَةٍ أَوْ جَمْرَتَيْنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْعُدَ مُتَرَبِّعًا فِي الصَّلَاةِ " وَهَذَا قَدْ حَمَلَهُ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ عَلَى الْإِطْلَاقِ، وَقَالَ: يُكْرَهُ مَا يَكْرَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ تَرَبُّعِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، وَهُمْ، يَعْنِي الْعِرَاقِيِّينَ، يُخَالِفُونَ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَيَقُولُونَ: قِيَامُ صَلَاةِ الْجَالِسِ التَّرَبُّعُ. ثُمَّ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ قَالَ: يَقْعُدُ فِي مَوْضِعِ الْقِيَامِ مُتَرَبِّعًا، وَكَيْفَ أَمْكَنَهُ وَكَأَنَّهُ حَمَلَهُ عَلَى الْخُصُوصِ، أَوْ ذَهَبَ إِلَيْهِ بِبَعْضِ مَا مَضَى وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک یا دو انگاروں پر بیٹھ جاؤں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ نماز میں چار زانو بیٹھوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی کتاب میں اس کو مطلقاً ذکر کیا ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں چار زانو بیٹھنا ناپسند سمجھتے ہیں اور عراقیین سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا قیام چار زانو بیٹھنا ہے۔
پھر امام بویطی رحمہ اللہ کی کتاب میں فرماتے ہیں: قیام کی جگہ چار زانو بیٹھنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ گویا انہوں نے اس کو خصوصیت پر محمول کیا ہے یا اس طرف گئے ہیں جو گزر چکا ہے۔ (واللہ اعلم)