السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما أدرك من صلاة الإمام فهو أول صلاته باب: جو نماز امام کے ساتھ پا لی جائے وہی اس کی پہلی نماز ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَأَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: " مَا أَدْرَكْتَ مِنْ آخِرِ صَلَاةِ الْإِمَامِ فَاجْعَلْهُ أَوَّلَ صَلَاتِكَ " قَالَ الْوَلِيدُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَا: " مَا أَدْرَكْتَ مِنْ صَلَاةِ الْإِمَامِ أَوَّلُ صَلَاتِكَ ".حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ امام کے ساتھ جو تم نماز کا آخری حصہ پالو اس کو اپنی نماز کا ابتدائی حصہ شمار کرو۔
(ب) حضرت ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت اوزاعی رحمہ اللہ اور حضرت سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: امام کی نماز سے جو تم پالو وہ تمہاری ابتدائی نماز ہے۔
(ج) سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ تو امام کے ساتھ جو نماز پالے وہ تیری ابتدائی نماز ہے اور امام قرآن کی تلاوت میں جو تجھ پر سبقت لے گیا ہے اس کو پورا کر لے۔