السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في حك النخاعة عن القبلة باب: قبلہ رخ سے بلغم کھرچنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3604
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَعَالَى قِبَلَ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى فَلَا يَبْزُقَنَّ أَوْ لَا يَتَنَخَّمَنَّ " ثُمَّ نَزَلَ فَحَتَّهُ بِيَدِهِ ثُمَّ لَطَخَهُ فِيمَا أَظُنُّهُ بِزَعْفَرَانٍ " وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَنَخَّعْ عَنْ يَسَارِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ دُونَ كَلِمَةِ اللَّطْخِ فِيمَا أَظُنُّ بِالزَّعْفَرَانِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ دُونَهَا بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک آپ نے قبلہ کی دیوار پر بلغم لگی دیکھی تو لوگوں پر غصہ ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، جب کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی بلغم پھینکے۔“ پھر آپ نے (منبر سے) اتر کر اس کو کھرچ ڈالا اور وہاں کوئی چیز لگائی۔ میرا خیال ہے کہ زعفران منگوا کر دیوار پر مل دیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بلغم پھینکے تو اپنے بائیں طرف پھینکے۔“