السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من بزق وهو يصلي باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز کی حالت میں تھوکا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ، وَإِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْصُقَنَّ أَحَدُكُمْ فِي قِبْلَتِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " ثُمَّ أَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: " أَوْ يَفْعَلُ كَذَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قبلہ کی دیوار میں بلغم دیکھی تو آپ ﷺ کو یہ بات بہت گراں گزری اور ناگواری کے آثار آپ ﷺ کے چہرے سے عیاں ہو رہے تھے۔ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے“ یا فرمایا: ”اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے۔ لہٰذا تم میں سے کوئی بھی ہرگز اپنے قبلے کی طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک دے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے کپڑے یا چادر کا ایک کنارہ پکڑ کر اس میں تھوکا اور اس کو مسل دیا اور فرمایا: ”یا اس طرح کر لے۔“