السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من بزق وهو يصلي باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز کی حالت میں تھوکا
حدیث نمبر: 3594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً ⦗٤١٥⦘ فِي الْقِبْلَةِ فَكَرِهَهُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ إِنَّ الْمَرْءَ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، أَوْ قَالَ: رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلْيَبْزُقْ، عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " ثُمَّ أَخَذَ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ فَبَزَقَ فِيهِ وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ ثُمَّ قَالَ: " أَوْ لِيَفْعَلْ هَكَذَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو اسے ناپسند فرمایا اور ناپسندیدگی کے آثار آپ ﷺ کے چہرے سے پہچانے جا رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کو کھرچ ڈالا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے“ یا فرمایا: ”اللہ اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے، لہٰذا وہ اپنی بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک ڈال دے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے کپڑے کا ایک کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا اور اس کو مسل دیا، پھر فرمایا: ”یا پھر اس طرح کرلے۔“