السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في تحسين الصلاة باب: نماز کو سنوار کر پڑھنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 3583
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: " يَا فُلَانُ أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَكَ؟ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّى كَيْفَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ، إِنِّي وَاللهِ لَأُبْصِرُ مَنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ مَنْ بَيْنِ يَدِيَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ”اے فلاں! تو نماز کو اچھی طرح کیوں نہیں ادا کرتا؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ نمازی نماز کس طرح پڑھتا ہے؟ وہ اپنے لیے نماز پڑھتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں۔“