السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية التخصر في الصلاة باب: نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے (کوکھ پر ہاتھ باندھنے) کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3568
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَنَا لَا أَعْرِفُهُ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَاصِرَتِي فَنَحَّى يَدِي، فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ قُلْتُ: مَا أَرَدْتَ إِلَيَّ؟ قَالَ: أَنْتَ هُوَ أَنْتَ هُوَ؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ الصَّلْبِ فِي الصَّلَاةِ " وَرَوَاهُ مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ وَقَالَ: عَنِ التَّخَصُّرِ فِي الصَّلَاةِ وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
زیاد بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں انہیں پہچانتا تھا۔ میں نے نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ میں رکھا تو انہوں نے میرے ہاتھ کو دھکا دیا۔ جب میں نے نماز مکمل کی تو عرض کیا: تمہیں مجھ سے کیا سروکار تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”تو نے اس طرح کیا ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نماز میں سولی سے منع فرماتے تھے۔“
(ب) اس حدیث کو مکی بن ابراہیم، سعید سے روایت کرتے ہیں اور وہ نماز میں کولہوں پر ہاتھ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں اس کو مکروہ کہتے تھے۔