السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية التخصر في الصلاة باب: نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے (کوکھ پر ہاتھ باندھنے) کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ زَادَ، فَقَالَ: قُلْنَا لِهِشَامٍ: مَا الِاخْتِصَارُ؟ قَالَ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَصْرِهِ وَهُوَ يُصَلِّي وَرَوَى سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعْنَى هَذَا التَّفْسِيرِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) امام احمد کی سند سے اسی کی مثل حدیث منقول ہے، لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ ہم نے ہشام سے پوچھا: «الِاخْتِصَارُ» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دورانِ نماز آدمی اپنا ہاتھ کولہوں پر رکھے۔
(ب) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح تفسیر کرتے ہیں۔