السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: سيماهم في وجوههم من أثر السجود باب: ”ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے“ کے بیان میں
حدیث نمبر: 3560
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ فَضْلٍ الضَّبِّيُّ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ {سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ} [الفتح: ٢٩] أَهُوَ أَثَرُ السُّجُودِ فِي وَجْهِ الْإِنْسَانِ؟ فَقَالَ: " لَا إِنَّ أَحَدَهُمْ يَكُونُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مِثْلُ رُكْبَةِ الْعَنْزِ وَهُوَ كَمَا شَاءَ اللهُ، يَعْنِي مِنَ الشَّرِّ، لَكِنَّهُ الْخُشُوعُ ".حافظ ثناء اللہ
منصور رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے ﴿سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ [سورة الفتح: 29] ”ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کی وجہ سے ہے“ کے متعلق پوچھا: کیا اس سے مراد انسان کے چہرے میں سجدوں کے نشانات ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں! تم میں سے کسی کی آنکھوں کے درمیان بکری کے گھٹنے کی طرح کوئی چیز ہو تو وہ جس طرح کہ اللہ چاہتا ہے شر ہوگا، لیکن وہ خشوع کی وجہ سے ہوگا۔
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ شبنم کا پاک ہونا اور زمین کا گیلا ہونا۔