السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: سيماهم في وجوههم من أثر السجود باب: ”ان کی پہچان ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے“ کے بیان میں
حدیث نمبر: 3558
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: رَأَى أَبُو الدَّرْدَاءِ امْرَأَةً بِوَجْهِهَا أَثَرٌ مِثْلُ ثَفِنَةِ الْعَنْزِ، فَقَالَ: " لَوْ لَمْ يَكُنْ هَذَا بِوَجْهِكِ كَانَ خَيْرًا لَكِ " وَرُوِّينَا عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَنْكَرَهُ وَقَالَ: " وَاللهُ مَا هِيَ سِيمَاءُ.حافظ ثناء اللہ
ابو عون بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے چہرے میں بکری کے گھٹنے کی طرح نشان دیکھا تو فرمایا: اگر تیرے چہرے میں یہ نشان نہ ہوتا تو تیرے لیے بہت اچھا تھا۔
(ب) سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اس کو صحیح نہ سمجھا اور کہا: اللہ کی قسم یہ نشان علامت نہیں ہے۔