السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب الخشوع في الصلاة والإقبال عليها باب: نماز میں خشوع اور اس کی طرف پوری توجہ کرنے سے متعلق ابواب کا جامع بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَنَمَةَ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى صَلَاةً فَأَخَفَّهَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ إِنَّكَ خَفَّفْتَ فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ ⦗٣٩٩⦘ حُدُودِهَا شَيْئًا؟ إِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ لِيُصَلِّي الصَّلَاةَ مَا لَهُ مِنْهَا إِلَّا عُشْرُهَا تُسْعُهَا ثُمْنُهَا سُبُعُهَا سُدْسُهَا خُمُسُهَا رُبُعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا " هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ أَرَاكَ قَدْ خَفَّفْتَهَا وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي الصَّلَاةَ كَامِلَةً، وَمِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي النِّصْفَ وَالثُّلُثَ وَالرُّبُعَ وَالْخُمُسَ حَتَّى بَلَغَ الْعُشْرَ "، رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لِيُصَلِّي فَمَا يُكْتَبُ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ، وَالتُّسْعُ وَالثُّمُنُ وَالسُّبْعُ حَتَّى يُكْتَبَ لَهُ صَلَاتُهُ تَامَّةً ".عبداللہ بن عنمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے اور مختصر نماز پڑھی تو میں نے عرض کیا: اے ابویقظان! آپ نے بہت مختصر نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم نے مجھے نماز میں کوئی کمی کرتے دیکھا ہے؟ میرے جلدی کرنے کی وجہ یہ تھی کہ شیطان مجھے نماز میں بھلا نہ دے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے لیے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور کبھی آدھا اجر لکھا جاتا ہے۔“
(ب) عبدالرحمن بن ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں پڑھیں تو عبدالرحمن بن حارث رحمہ اللہ نے کہا: اے ابویقظان! میرا خیال ہے کہ آپ نے نماز مختصر پڑھی ہے۔
(ج) ابویسر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی مکمل نماز پڑھتا ہے اور کوئی نصف پڑھتا ہے، کوئی تیسرا حصہ، کوئی چوتھا حصہ اور کوئی پانچواں حصہ۔۔۔“ حتیٰ کہ آپ نے دسویں حصے کا بھی ذکر فرمایا۔
(د) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ نماز پڑھتا ہے اور اس کے لیے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں حصہ اور بعض کے لیے اس کی نماز کا مکمل اجر لکھا جاتا ہے۔“