السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يديه سترة المرأة والحمار والكلب الأسود باب: اس قول کا بیان کہ جب نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ فَإِذَا رَجُلٌ مُقْعَدٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ: سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ: " هَذِهِ قِبْلَتُنَا " ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا قَالَ: فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا فَقَالَ: " قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللهُ أَثَرَهُ " فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا.سعید بن غزوان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حج کے ارادے سے نکلے تھے تو تبوک کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، وہاں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں یہ میری زندگی میں کسی اور کو نہ بتائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مقامِ تبوک پر ایک کھجور کے پاس پڑاؤ ڈالا اور فرمایا: ”یہ ہمارا قبلہ ہے“۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، میں اس وقت بچہ تھا۔ میں دوڑا دوڑا آپ ﷺ اور اس درخت کے درمیان سے گزر گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ہماری نماز توڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں توڑ دے“۔ میں اس وقت سے آج تک ان پر کھڑا نہیں ہو سکا۔