حدیث نمبر: 3461
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَمَّادِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ. قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو بَكْرٍ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ: " أَفَرَأَيْتَ " مِنْ كَلَامِ عُبَيْدِ اللهِ لِنَافِعٍ لَا مِنْ كَلَامِ نَافِعٍ لِعَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) دوسری سند سے اسی کے مثل روایت منقول ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسے لگتا ہے کہ مذکورہ بالا روایت میں «أَفَرَأَيْتَ» عبیداللہ کا نافع کے لیے کہنا ہو، نہ کہ نافع نے یہ بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہی ہو، اس وجہ سے کہ ابراہیم بن موسیٰ رحمہ اللہ اور قاسم بن زکریا رحمہ اللہ دونوں نے مجھے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تو اونٹ کو اپنے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں رکھتے تھے۔
(ج) قاسم رحمہ اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: ”جب اونٹ چل رہے ہوتے تو پھر کیا کرتے؟“ انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ اپنے اور قبلہ کے درمیان پالان کی پچھلی لکڑی کو رکھ دیتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3461
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ حواله مذكوره»