السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يكون سترة المصلي باب: نمازی کا سترہ کیا چیز ہو اس کا بیان
حدیث نمبر: 3456
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھ رہے تھے اور جانور ہمارے سامنے سے گزرتے رہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز (بطور سترہ) ہو تو پھر اسے آگے سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہ دے گی۔“