السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الصبي يتوثب على المصلي ويتعلق بثوبه فلا يمنعه باب: بچے کا نمازی پر اچھلنا اور اس کے کپڑے سے لٹکنا اور نمازی کا اسے نہ روکنا
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَامِلٌ أَحَدَ ابْنَيْهِ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعَهُ عِنْدَ قَدَمِهِ الْيُمْنَى فَسَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةٍ أَطَالَهَا قَالَ أَبِي: فَرَفَعْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنَ النَّاسِ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَإِذَا الْغُلَامُ رَاكِبٌ عَلَى ظَهْرِهِ فَعُدْتُ فَسَجَدْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ سَجَدْتَ فِي صَلَاتِكَ هَذِهِ سَجْدَةً مَا كُنْتَ تَسْجُدُهَا، أَفَشَيْءٌ أُمِرْتَ بِهِ أَوْ كَانَ يُوحَى إِلَيْكَ؟ قَالَ: " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، إِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أَعْجَلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ".عبداللہ بن شداد بن ہاد رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اپنے نواسے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو اٹھائے ہوئے تشریف لائے۔ آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں اپنے دائیں پاؤں کے قریب بٹھا دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور اس کو بہت طویل کر دیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ تو سجدے میں ہیں اور بچہ آپ ﷺ کی پیٹھ پر سوار ہے، میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے اس نماز میں بہت ہی لمبا سجدہ کیا، اتنا لمبا سجدہ تو آپ نہیں کرتے، کیا دورانِ نماز آپ کو کوئی حکم دیا گیا یا آپ کی طرف وحی کی جا رہی تھی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی، بلکہ میرا بیٹا میرے اوپر سوار تھا، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں جلدی کروں اور وہ اپنا شوق پورا نہ کر پائے۔“