السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يبني من سبقه الحدث على ما مضى من صلاته باب: اس قول کا بیان کہ جس شخص کو حدث لاحق ہو جائے وہ اپنی بقیہ نماز کو گزشتہ نماز پر بنا کرے
حدیث نمبر: 3387
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٣٦٤⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَنْ وَجَدَ فِي بَطْنِهِ رِزًّا أَوْ كَانَ فِي بَطْنِهِ بَوْلٌ فَلْيَجْعَلْ ثَوْبَهُ عَلَى أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْتَقِلْ وَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا يُكَلِّمْ أَحَدًا فَإِنْ تَكَلَّمَ اسْتَأْنَفَ وَفِي كُلِّ هَذَا إِنْ صَحَّ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِالِانْصِرَافِ بِالرِّزِّ قَبْلَ خُرُوجِ الْحَدَثِ ثُمَّ الْبِنَاءُ عَلَى مَا مَضَى مِنَ الصَّلَاةِ وَرُوِيَ مِثْلُ ذَلِكَ أَيْضًا، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو آدمی دورانِ نماز اپنے پیٹ میں کوئی گڑبڑ یا پیشاب کی حاجت محسوس کرے تو وہ اپنا کپڑا ناک پر رکھے اور باہر نکل جائے اور وضو کرے، اس دوران کسی سے بات نہ کرے، اگر بات کر لے تو پھر نئے سرے سے نماز پڑھے۔
(ب) یہ احادیث اگر صحیح ہوں تو ان میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نماز میں گڑبڑ محسوس ہو تو حدث لاحق ہونے سے پہلے نماز سے نکل جائے اور وضو کر کے اسی پر بنا کرنا جائز ہے۔