السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يبني من سبقه الحدث على ما مضى من صلاته باب: اس قول کا بیان کہ جس شخص کو حدث لاحق ہو جائے وہ اپنی بقیہ نماز کو گزشتہ نماز پر بنا کرے
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَأَصَابَهُ رِزٌّ فِي بَطْنِهِ أَوْ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ فَخَشِيَ أَنْ يُحْدِثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ الْإِمَامُ فَلْيَجْعَلْ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَعْتَدَّ بِمَا قَدْ مَضَى فَلَا يَتَكَلَّمْ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يُتِمَّ مَا بَقِيَ فَإِنْ تَكَلَّمَ فَلْيَسْتَقْبِلْ، وَإِنْ كَانَ قَدْ تَشَهَّدَ وَخَافَ أَنْ يُحْدِثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ الْإِمَامُ فَلْيُسَلِّمْ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ وَالْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ضَعِيفٌ وَعَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ قَوِيٍّ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ ثَالِثٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَفِيهِ أَيْضًا ضَعْفٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جو شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو یا قے آئے یا نکسیر پھوٹ پڑے اور اسے ڈر ہو کہ وہ امام کے سلام پھیرنے سے پہلے بے وضو ہو جائے گا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ناک پر رکھ لے (اور چلا جائے)۔ پھر وضو کر کے اگر وہ چاہے تو اسی پر بنا کرے اگر اس نے کلام نہ کیا ہو یعنی وہ نماز نہ لوٹائے جو گزر چکی ہے۔ پھر باقی نماز مکمل کرے اور اگر وہ اس دوران کلام وغیرہ کر لے تو نئے سرے سے شروع کرے اور اگر تشہد میں بیٹھ چکا ہے اور اسے امام کے سلام پھیرنے سے پہلے وضو ٹوٹنے کا خطرہ رہے تو وہ (پہلے ہی) سلام پھیر لے اس کی نماز ہو گئی۔“