السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أحدث في صلاته قبل الإحلال منها بالتسليم باب: اس شخص کا بیان جس کا سلام کے ذریعے نماز سے نکلنے سے پہلے حدث ہو گیا (وضو ٹوٹ گیا)
حدیث نمبر: 3376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ ⦗٣٦١⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحَدِثْ فَأُشْكِلَ عَلَيْهِ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ يَنْصَرِفُ إِذَا سَمِعَ صَوْتًا أَوْ وَجَدَ رِيحًا لَا فَرْقَ فِيهِ بَيْنَ عَمْدِهِ وَسَهْوِهِ وَسَبْقِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے دوران اپنی سرین میں حرکت محسوس کرے اور اسے یقین نہ ہو کہ وضو ٹوٹا ہے تو جب تک وہ آواز نہ سنے یا بدبو محسوس نہ کرے تو نماز نہ توڑے۔“
(ب) اس حدیث سے یہ دلیل سمجھ آرہی ہے کہ جب وہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرے تو نماز توڑ دے۔ یہاں قصداً، سہواً اور سبقاً میں کوئی فرق نہیں۔ واللہ اعلم۔