السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أحدث في صلاته قبل الإحلال منها بالتسليم باب: اس شخص کا بیان جس کا سلام کے ذریعے نماز سے نکلنے سے پہلے حدث ہو گیا (وضو ٹوٹ گیا)
حدیث نمبر: 3374
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي شَكَا إِلَيْهِ رَجُلٌ يَجِدُ فِي صَلَاتِهِ شَيْئًا قَالَ: " لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم اپنے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو کسی شخص نے شکایت کی کہ وہ اپنی نماز میں کوئی شبہ پاتا ہے تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نماز نہ توڑے جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بدبو نہ محسوس کر لے۔“